بیدر، 7؍ مارچ (ایس او نیوز) بیدر کی ضلع عدالت نے اسکول انتظامیہ کے 5 لوگوں کو پیشگی ضمانت دیتے ہوئے کہا کہ یہ اسکولی بچوں کے ذریعہ کھیلا گیا ڈرامہ سماج میں کسی بھی طرح کا تشدد یا بے یقینی کا ماحول پیدا نہیں کرتا اور پہلی نظر میں سیڈیشن کا معاملہ نہیں بنتا ۔
بیدر کی ایک ضلع عدالت نے سی اے اے مخالف ڈرامہ کرنے کو لے کر درج ہوئے سیڈیشن کے معاملے میں شاہین اسکول کے منیجر سمیت کئی لوگوں کو پیشگی ضمانت دے دی ہے۔
عدالت نے کہا کہ پہلی نظر میں سیڈیشن کا معاملہ نہیں بنتا ہے اور اس کو لے کر ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے ۔ عدالت نے یہ کہتے ہوئے نمائندوں کو پیشگی ضمانت دی کہ سی اے اے کے خلاف اسکول کے بچوں کے ذریعہ کھیلا گیا ڈرامہ سماج میں کسی بھی طرح کا تشدد یا بے یقینی ماحول پیدا نہیں کرتا ۔ معلوم ہوا کہ اس ڈرامہ کی وجہ سے اسکول کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی گئی تھی اور ان پر سیڈیشن کا مقدمہ درج کیا تھا۔
ضلع عدالت کے جج ایم پریم وتی نے اپنے حکم میں کہا کہ بچوں نے صرف یہ ظاہر کیا ہے کہ اگر وہ کاغذ نہیں دکھاتے تو ان کو ملک چھوڑنا ہوگا۔ اس کے علاوہ ایسا کچھ نہیں ہے جس سے یہ دکھے کہ انہوں نے سیڈیشن جیسا کوئی جرم کیا ہو۔
عدالت نے نے شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشن کے صدر عبدالقدیر (60) اور اسکول کے ہیڈماسٹرعلائ الدین (40) اور اسکول انتظامیہ کمیٹی کے تین اراکین کو دو دو لاکھ روپئے کی نجی بانڈ کے ساتھ ضمانت دی۔
مقامی صحافی محمد یوسف رحیم نے اپنے سوشیل میڈیا اکاؤنٹ پر ڈرامہ نشر کیا تھا ۔ ان کو بھی پشیگی ضمانت دی گئی ہے۔ یہ معاملہ 26؍ جنوری کو بی جے پی کے مقامی رکن نیلیش رکشیال کی شکایت پر درج کیا گیا تھا، جنہوں نے رحیم کے سوشیل میڈیا اکاؤنٹ سے یہ ڈرامہ دیکھا تھا، منگل کو عدالت کے ساتھ سیڈیشن کے معاملے کے سبھی ملزمین کو ضمانت دے دی گئی ہے۔